معروف قوال امجد صابری فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق: نمازِجنازہ کل ادا کی جائے گی

کراچی (اُردوپاورڈاٹ کام ) کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں معروف قوال امجد صابری کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ سےانکی گاڑی کا ڈرائیو زخمی ہے جسے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لیاقت آباد نمبر 10میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے امجد صابری کی گاڑی پر فائرنگ کر دی ۔ فائرنگ کے نتیجے میں امجد صابری زخمی ہوئےجنہیں تشویشناک حالت میں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔امجد صابری کو چہرے اور سینے پر گولیاں لگی ہیں تاہم سینے پر لگنے والی گولی انکے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قوال امجد صابری ٹی وی پروگرام میں شرکت کیلئے جا رہے تھے کہ گھات میں بیٹھے نامعلوم حملہ آوروں نے انکی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔ فائرنگ کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے مٰیں لے لیا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امجد صابری کی رہائش بھی اسی علاقے میں واقع ہے اور وہ ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کیلئے ڈرائیور کے ہمراہ جا رہے تھے کہ گھر سے 2 کلو میٹر دور ہی فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔گاڑی میں امجد صابری کے ہمراہ انکے بیٹے اور بھتیجے بھی موجود تھے تاہم وہ فائرنگ سے محفوظ رہے۔

45 سالہ امجد صابری معروف قوال غلام فرید صابری کے صاحبزادے ہیں اور عصر حاصر میں قوالی کے شعبے میں صف اول کے قوال مانے جاتے ہیں۔

امجد صابری نے متعدد ہندی فلموں کیلئے بھی قوالیاں ریکارڈ کرائی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امجد صابری کی گاڑی پر 11 گولیاں فائر کی گئیں جبکہ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امجد صابری کو 6 گولیاں لگی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق امجد صابری گزشتہ دنوں ایک غیر ملکی کنسرٹ پر گئے تھے اور غیر ملکی کنسرٹ پر جانے کے بعد وہ واپس پاکستان آئے تو اس کے بعد سے انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی انہوں نے متعلقہ تھانے اور ایس ایس پی کینٹ کو بھی شکایت کی تھی تاہم ان کو دی جانے والی دھمکیوں کا کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا۔

ایس پی لیاقت آبادنے بتایا کہ امجد صابری نے شکایت کی تھی کہ کچھ لوگ میرا پیچھا کر رہے ہیں اور فون پر دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں تاہم پولیس نے انہیں تسلی دی کہ وہ اخلاقی طور پر اچھی شخصیت ہیں اور ان کے والد نے بھی علاقے میں اچھا وقت گزارار ہے جس کی وجہ سے ان کی کسی کے ساتھ بھی دشمنی نہیں ہے لہٰذا انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ایس پی لیاقت آباد نے مزید کہا کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ امجد صابری کی جانب سے شکایت کیے جانے کے باوجود انہیں سکیورٹی کیوں فراہم نہیں کی گئی۔

عالمی شہرت یافتہ قوال اور نعت خواں امجد صابری کی نمازہ جنازہ کل نماز ظہر کے بعد مسجد فرقانیہ لیاقت آباد میں ہوگی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی تدفین پاپوش نگر کے قبرستان میں کی جائے گی۔دوسری طرف ان کے بھائی ثروت صابری لندن سے پاکستان کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔ان کی آمد کے بعد ان کی تدفین کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ان کے لواحقین نے ان کی میت کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد ان کی میت کو ان کے گھر پہنچا دیا گیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کی اور کہا کہ واقعہ شہر کا امن کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے، ناکہ بندی کرے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے ۔

ایم کیو ایم نے امجد صابری کے قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ،کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر معروف قوال کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں