صدقہ فطر کی کم از کم شرح 100 روپے مقرر

اسلام آباد(اُردوپاورڈاٹ کام)مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ اس سال صدقہ فطر کی شرح کم سے کم 100 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔

576e7d1ed2784
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اے پی پی سے بات کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ 2.25 کلو آٹے کی مارکیٹ میں قیمت کے حساب سے اس سال صدقہ فطر 100 روپے فی کس مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو مسلمان ‘جو’ کی قیمت کے حساب سے فطرانہ ادا کرنا چاہتے ہیں انہیں 320 روپے فی کس، کھجور کے حساب سے 1600 اور کشمش کے حساب سے بھی 1600 روپے فی کس مستحق افراد کو دینے چاہئیں۔

مفتی منیب الرحمان نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ کوشش کریں کہ فطرانہ عید الفطر سے پہلے ہی دے دیں تاکہ مستحق افراد بھی اچھی طرح عید مناسکیں۔

واضح رہے کہ صدقہ فطر عید کی نماز سے قبل ادا کرنا ضروری ہے جبکہ گھر کے سربراہ کو اپنے پیاروں یعنی بیوی، بچوں وغیرہ کا فطرانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ صاحب ثروت افراد کو چاہیے کہ وہ فطرانے کی رقم بڑھا کر دیں۔

آٹے کے حساب سے فدیہ 3 ہزار روپے، جو کے حساب سے 9 ہزار 600روپے، کھجور کے حساب سے 48 ہزار اور کشمش کے حساب سے بھی 48 ہزار روپے ادا کرنے چاہئیں۔

کفارہ برائے صوم 30 ایام برائے ساٹھ مساکین کے لئے آٹے کے حساب سے 6 ہزار روپے، جو کے حساب سے 19 ہزار 200 جبکہ کھجور اور کشمش کے حساب سے 96، 96 ہزار بالترتیب ادا کرنے ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں