توقعات پر پورا اترنے والی فلم’ اُڑتا پنجاب‘

بھارتی فلم ’اُڑتا پنجاب‘ ریلیز ہونے سے پہلے ہی مشہور ہوگئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انڈیا کے سینٹرل بورڈ آف فلم سینسرز نے اس فلم کو نمائش کی اجازت دینے کے لیے فلم میں 89 کٹس کی شرط لگا دی تھی۔ یہ فیصلہ فلم کے پروڈیوسرز نے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور وہ اپنی لڑائی ممبئی ہائی کورٹ لے گئے تھے۔
وہاں کے فاضل جج نے سینسر بورڈ کے موقف کو نا صرف مسترد کر دیا بلکہ بورڈ کو کھری کھری سنائی کہ آرٹ پر قدغن لگانا بورڈ کا کام نہیں ہے۔ عدالت نے فلم کو صرف ایک چھوٹی سی کٹوتی کے ساتھ ریلیز کرنے کا حکم دیا۔
عموماً جب کسی فلم کی وجہ شہرت ایسا غیر ضروری ڈرامہ ہو جس کا فلم کے موضوع سے صرف سرسری سا تعلق ہو، تو ایسی فلمیں دیکھنے والوں کے لیے مایوس کن ہی نکلتی ہیں۔ شاید اس لیے کہ لوگوں کی توقعات بہت بڑھ چکی ہوتی ہیں۔
مجھے یہ بتانے میں خوشی ہو رہی ہے یہ مسئلہ ’اڑتا پنجاب‘ کا نہیں ہے۔
اڑتا پنجاب ان چند فلموں میں سے ہے جو لوگوں کی دلچسپی کا سامان مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔
فلم کا موضوع بھارتی پنجاب میں نشہ آور ادویات کی بڑھتی ہوئی لت سے ہے۔
اس کا نام بھی اس نشے کی حالت کے احساس سے لیا گیا ہے جس کو انگریزی میں ’گیٹنگ ہائی‘ کہتے ہیں۔
یہ فلم تین کہانیاں لے کر چلتی ہے جو آخر میں آپس میں ٹکراتی ہیں۔
ایک کہانی ہے ٹامی سنگھ نامی لڑکے کی جو منشیات کے بارے میں گانے گاتا ہے اور نشے کے لائف سٹائل کو پروموٹ کرتا ہے۔ وہ خود بھی کوکین کا عادی ہے۔ لیکن ایک ہفتہ جیل کی ہوا کھانے کے بعد اسے اپنے کرتوتوں کے اثرات کا کچھ اندازہ ہونے لگتا ہے۔ کوشش کے باوجود وہ اپنی عادت ترک نہیں کر سکتا۔ اس پر مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ساری زندگی، اس کی شہرت کی وجہ وہ چیز ہے جسے وہ اب چھوڑنا چاہتا ہے۔ آخر جائے تو جائے کہاں!
دوسری کہانی پولیس کے ایک اے ایس آئی کی ہے جو بھتے کے پیسوں کی خاطر ڈرگز کے کاروبار کو چلنے میں مدد دیتا ہے۔
لیکن جب اس کا اپنا چھوٹا بھائی نشے کی لت میں پھنس جاتا ہے تو وہ بھائی کے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر تہیہ کرتا ہے کہ وہ اس کاروبار کو ختم کرنے اور اس کے پیچھے بااثر لوگوں کو سب کے سامنے لانے میں مدد دے گا۔
تیسری کہانی پنجاب میں کھیتوں میں کام کرنے والی ایک غریب بہاری لڑکی کی ہے، جو جلدی سے کچھ پیسے کھانے کےچکر میں ڈرگ مافیا کے ہھتے چڑھ جاتی ہے۔ وہ لوگ نہ صرف اس لڑکی کو زبردستی نشے کا عادی بنا دیتے ہیں بلکہ اس سے جسم فروشی بھی کرواتے ہیں۔
بظاہر یہ کہانیاں بالکل الگ الگ ہیں لیکن یہی اس فلم کی کشش ہے کہ یہ آپس میں کیسے جا کر جڑتی ہیں۔ شاید یہ تجزیہ اتنا صحیح بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تینوں کہانیاں اپنی اپنی جگہ بہت دلچسپ ہیں اور اس فلم میں اداکاروں کی کارکردگی نے ان کو چار چاند لگا دیے ہیں۔اس کے چھوٹے بڑے کردار سبھی اپنی جگہ ٹھیک بیٹھتے ہیں لیکن دو اداکار خاص طور پر ستاروں کی طرح چمکتے ہیں۔ شاہد کپور جو پنجابی ٹامی سنگھ کے کردار میں پاگل پن، نرگسیت، اور اندرونی کنفیوژن کا انوکھا اور یقین دلانے والا امتزاج پیدا کرتے ہیں۔ اور دوسری عالیہ بھٹ ہیں جو بہاری لڑکی کا رول کرتی ہیں۔
عالیہ بھٹ کی پرفارمنس ایک انکشاف سے کم نہیں ہے۔ لہجہ اور چال سے لے کر کردار کی سرسری کمزوری اور اندرونی طاقت اتنی خوبصورتی سے نبھائی گئی ہے کہ فلم بین دنگ رہ جائیں گے کہ یہ وہی اداکارہ ہے جس نے دو چار فلمیں پہلے اپنا سفر ’دی سٹوڈنٹ آف دی ائر‘ میں ایک اٹھارہ برس کی چلبلی لڑکی کے طور پر شروع کیا تھا۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سال کے آخر میں عالیہ بھٹ ضرور کئی فلم ایوارڈز کے لیے نامزد ہوں گی۔
اگر آپ ابھیشیک چوبے کے نام سے واقف ہی تو پھر آپ پہلے ہی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ فلم کیوں دیکھنے کے قابل ہے۔ اور اگر آپ واقف نہیں ہیں تو اب اپ کو ہو جانا چاہیے۔
ابھیشیک چوبے اڑتا پنجاب کے لکھاری اور ہدایت کار ہیں۔ اور اگر آپ نے بطور ہدایت کارو و مصنف ان کی پہلی یا دوسری فلم ’عشقیہ‘ اور ’ڈیڑھ عشق‘ دیکھی ہوں تو یقیناً آپ پہلے سے ان کے کام کے مداح ہوں گے۔ ابھیشیک نے اپنا فلمی سفر مشہور و معروف ہدایت کار وشال بھردواج کے ساتھ شروع کیا اور ان کی متعدد فلموں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر فرائض انجام دیے۔
اس کے علاوہ وہ وشال کی فلمیں ’اوم کارا‘ ور کمینے‘ کے مشترکہ لکھاری بھی ہیں۔ ’عشقیہ‘ دیکھنے کے بعد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ابھیشیک چوبے مستقبل کے بہت اچھے فلمسازوں میں شمار ہوں گے۔
اڑتا پنجاب میں انھوں نے اس اندازے کو بالکل صحیح ثابت کردیا ہے۔
بالی وڈ میں پنجاب عموماً ہنسنے ہنسانے والے کیرکٹرز یا زیادہ سے زیادہ تقسیم ہند کی کہانیاں سنانے تک محدود رہتا ہے۔ اگر کسی فلم نے پنجاب کا موجودہ چہرہ دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے تو وہ یا تو گلزار صاحب نے اپنی 1994 کی فلم ’ماچس‘ میں کی یا ابھیشیک چوبے نے اڑتا پنجاب میں۔
پوسٹ سکرپٹ انڈین سینسر بورڈ کا ایک مسئلہ اس فلم کے ساتھ یہ تھا کہ اس میں گالیاں بہت ہیں۔ لیکن یہ گالیاں کرداروں کی بول چال کی زبان کے بالکل عین مطابق ہیں۔ پاکستان میں اسی وجہ سے فلم کو صرف بالغوں کے لیے موزوں یعنی ایڈلٹ ریٹنگ دی گئی۔
18 سال سے کم عمر والے یہ فلم سینما میں جا کر نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ان گالیوں کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے فلم کے آڈیو کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جب فلم کو بالغوں کے لیے موزوں قرار دینا تھا تو گالیوں کو کیوں کاٹا گیا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں