|
میاں محمد نواز
شریف کی طرف سے قادیانیوں کو بہن بھائی اور
پاکستان کا سرمایہ قرار دینے کے بعد بعض
دانشوروں اور کالم نگارو ں کی طرف سے ان کی
حمایت وکالت اورصفائی میں بعض اخبارات میں
ایسی ایسی تحریر یںشائع ہوئیں جو ” مدعی سست
گواہ چست“کا حقیقی مصداق ہیں ۔اس سلسلے کا ایک
نادر شہ کار شفقت محمود کی تحریر ہے جس میں ان
کا اشتعال اور انتہا پسندی چھلک رہی ہے بلکہ
ان کی برہمی آخری حدوں کو چھوتی ہوئی محسوس
ہورہی ہے۔ دراصل ہمارے بعض دانشوروں کا مسئلہ
یہ ہے کہ وہ بہت سے معاملات میں مغالطوں کا
شکار ہیں بالخصوص دینی معاملات میںوہ ابجدسے
بھی واقف نہ ہونے کے باوجود خود کو مجتہد ،مفتی
اور علامہ ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کے مرتکب
ہوتے ہیں۔نواز شریف کی طرف سے قادیانیوںکو
اپنا بہن بھائی قرار دینے کا معاملہ بھی ایسا
ہی ہے جس میں بہت سے دانشور اور سیاستدان غلط
فہمی کا شکار ہیں ۔میاں صاحب سے یہ توقع ہرگز
نہیں کی جاسکتی کہ وہ قادیانیوں کواپنا دینی
بہن بھائی قرار دیںگے یہی وجہ ہے کہ ان کے
بارے میں نہ تو کسی نے کفر کا فتوی دیا اور نہ
ہی انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کی
بات کی گئی اس بارے میں بعض سیکولر اہل قلم
خلط مبحث کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنی
طرف سے مفروضے قائم کرکے اس پر کالموں کے
طومار باندھے ہیں بات اسلام اور کفر کی نہیں
بلکہ فقط اظہار رائے کا معاملہ ہے۔ میاں نواز
شریف نے جس رائے کا اظہار کیا وہ مذہبی ،آئینی
،تاریخی اور منطقی لحاظ سے درست نہیں مذہبی
جماعتوں نے نہ صرف یہ کہ اپنی رائے کا اظہار
کیا بلکہ میاں نواز شریف کے بیان کی وجہ سے
عوام الناس میں جن غلط فہمیوں کے جنم لینے کا
خدشہ تھا اس کے ازالے کے لیے اپنی رائے کو
میڈیا کے ذریعے مشتہر کیا ہے۔معاملہ صرف اتنا
سا ہے لیکن حسن نثار ،نذیر ناجی ،ایاز امیر
اور شفقت محمود نے خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ
بنانے کی کوشش کی ہے ۔
بظاہر امکان یہی ہے کہ میاں نواز شریف نے
قادیانیوںکو پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے
اپنا بھائی کہا ہوگااور شفقت محمود ایسے لوگ
یہی بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستانی ہونے
کے ناطے قادیانیوں کو بھائی کہنے میں کیا حرج
ہے ؟ یادرہے کہ قادیانیوں اور دیگر اقلیتوں
میں واضح فرق یہ ہے کہ دیگر غیرمسلم اپنے اپنے
مذاہب اور نظریات کی پیروی کرتے ہیں جبکہ
قادیانی اسلام کا حلیہ بگاڑنے، شعائر اسلام کی
بیحرمتی اور اسلامی اصطلاحات کو توڑ مروڑ کر
استعمال کرنے کی جسارت کرتے ہیں ، دیگر مذاہب
کے پیروکار اپنے اپنے مقتداﺅں کی اتباع کرتے
ہیںجبکہ قادیانی اپنے گرو مرزا غلام احمد
قادیانی کو کبھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور
کبھی پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے
منصبِ جلیلہ پر فائز کرنے کی بھونڈی کوشش کرتے
ہیں،مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ کے بقول
قادیانیوںاور دیگر غیر مسلموں میں وہی فرق ہے
جو ایسے دو افراد کے مابین ہے جن میں سے ایک
شراب یا خنزیر کا گوشت اس وضاحت اور صراحت
کےساتھ بیچتاہے کہ وہ شراب اور خنزیر کا گوشت
بیچ رہا ہے اگرچہ وہ بھی مجرم ہے لیکن جوشخص
شراب پر آب زمزم کا لیبل لگا کر اورخنزیز کے
گوشت کو بکرے کا گوشت قرار دے کر بیچے وہ کہیں
بڑا مجرم ہے الغرض اسلامی ،دینی اور شرعی لحاظ
سے قادیانی عام کافروں سے یکسر مختلف ہیںیہی
وجہ ہے کہ ان کے لیے ”زندیق“ کی اصطلاح
استعمال کی جاتی ہے ۔جہاں تک پاکستانی آئین
اور قانون کا معاملہ ہے اسے بھی قادیانی تسلیم
کرنے کے لیے تیار نہیں ،وہ پاکستان کی منتخب
پارلیمنٹ کے فیصلوں کا مذاق اڑاتے ہیں،اعلیٰ
عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار ی
ہےں،خود کو اقلیت تسلیم کرنے کی بجائے حقیقی
مسلمانوں کے روپ میں پیش کرنے اور اس ملک کی
اکثریتی آبادی کے حقوق غصب کرنے کے مرتکب ہوتے
ہیںیوں ایک ایسا گروہ جو منتخب پارلیمنٹ کے
فیصلے کو تسلیم نہ کرے ،آئین کو پامال کرے ،عدلیہ
کا مذا ق اڑائے ،امتناعِ قادیانیت آرڈیننس کی
دھجیاں آڑائے ، اکثر یتی آبادی کے حقوق غصب
کرے ،کلیدی اسامیوں اور وسائل پر قابض ہوجائے
،غیرملکی آقاﺅں کے ایجنڈے کی تکمیل کرے اس
گروہ کے افراد کو کیونکر بہن بھائی قرار دیا
جاسکتا ہے ؟
جہاں تک قادیانیوں کے ا س ملک کا سرمایہ ہونے
کے دعوے کا تعلق ہے ہمارے خیال میں
مفکرپاکستان علامہ اقبال ؒ نے قادیانیوں کو
اسلام اور ملک کا غدار قرار دے کر اس قضیے کو
مدتوں پہلے حل کر دیا تھا کیونکہ قادیانیوں کے
بارے میں کون نہیں جانتا کہ وہ اکھنڈبھارت کے
قائل ہیں،وہ آج بھی چناب نگر میں اپنے مردے
امانتاً دفن کرتے ہیں کہ جب پاک بھارت دوبارہ
ایک ہو جائیں گے اس وقت وہ اپنے مردے قادیان
منتقل کرلیں گے ،جنہوں نے ہندو ¿ں کی حمایت
کرکے مسئلہ کشمیر کی بنیادڈالی ،جو اسرائیل کی
فوج میں باقاعدہ ملازمت کرتے اور صیہونی مقاصد
کی تکمیل کرتے ہیں ،جن کے گرو نے خود کو
انگریز کا خود کاشتہ پوداکہا تھا او روہ آج تک
انگریز ی آقاﺅں کے اشارہ ابرو پر چلتے ہیں ،پاکستان
نے قادیانیوںمیں سے ظفراللہ خان کو پہلاوزیر
خارجہ بننے کا اعزاز بخشا اور اس نے قائد اعظم
کی نماز جنازہ میں شرکت سے انکارکردیا ،پاکستان
نے ڈاکٹرعبدالسلام کی عزت افزائی کی لیکن وہ
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرح پاکستان کی کوئی
خدمت نہ کرسکا الغرض قادیانیوں کے حوالے سے
ایسے ایسے تاریخی حقائق ہیں جن کی بنیاد پر
انہیں نہ تو اپنا بھائی قرار دیا جا سکتا ہے
اور نہ ہی انہیں پاکستان کا سرمایہ کہا جا
سکتا ہے ۔ہاں اگر آج قادیانی ،قادیانیت سے
تائب ہو جائیں تو بلاشبہ وہ ہمارے بھائی ہیں
یا کم از کم وہ قرآن وسنت کے فیصلوں اور ملکی
قانون وآئین کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو غیر
مسلم اقلیت تسلیم کر لیں تب بھی ان کا معاملہ
عیسائیوں ،سکھوں اور ہندو ¿ں کی طرح ہو جائے
گا لیکن ان دونوں شرائط کی تکمیل کے بغیرہی
اگر نوازشریف انہیں بھائی اور پاکستان کا
سرمایہ قرار دیں اور ٹھوس اور واضح دلائل کی
بنیاد پر اگر مذہبی او رسیاسی جماعتوں کی طرف
سے نواز شریف کے بیان کی مذمت اورمخالفت کی
جائے تو اس پر شفقت محمود ایسے لوگوں کو اس
قدر سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟
شفقت محمود رواداری ،تحمل ،برداشت ،وسعت نظر
اور اظہاررائے کی آزادی کی بات کرتے ہیںلیکن
وہ میاں نوازشریف سے اختلاف رائے کا اظہار
کرنے والوںپراس قدر برہم ہوگئے کہ فوری طور پر
مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کردیا اوریہ کہہ
ڈالا کہ مدارس کے خلاف کارروائی کا یہ سب سے
موزوں وقت ہے ۔اگر ان کے نزدیک آزادی اظہار کی
اتنی ہی اہمیت ہے تو اہل مدارس کو مضبوط دلائل
کی بنیاد پر اپنے موقف کے اظہار کی آزادی دینے
کے لیے کیوں تیار نہیں ؟ شفقت محمود نے اپنے
کالم میں جس طرح مدارس اور مذہبی طبقات کے
بارے میں بدترین انتہا پسندی کا ثبوت دیا وہ
بہت قابل افسوس ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے
ہاں سیکولر انتہا پسندوں کے قلم زہر اگلتے
رہیںیا وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر کف اڑاتے
ہیں اس کے باوجود بھی وہ سدا کے اعتدال پسند
رہتے ہیں لیکن اگر کوئی اسلام پسند دلیل اور
منطق کی بنیا دپر کسی رائے کا اظہار کردے تو
اس پر فوراً انتہا پسندی کی پھبتی کسی جاتی ہے
اور اسے قابل گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے ۔
جدت پسند اہل مدارس کے سائنس اور ٹیکنالوجی سے
بے خبر ی پر ہلکان ہوئے جاتے ہیں لیکن خود
فرائض کے درجے کا دینی علم بھی نہیں رکھتے اور
اس کے سیکھنے کے احساس سے محروم ہیںجو انتہائی
افسوسناک امر ہے ۔
محترم شفقت محمود نے مدارس پر جس بھونڈے انداز
سے الزام تراشی کی اس سے قبل کیا انہوں نے کسی
دینی مدرسہ کا دورہ کیا ؟کسی دینی مدرسہ میں
کچھ وقت گزارا ؟کیا وہ دینی مدارس کے نصاب
ونظام سے واقف ہےں؟ کیا انہوں نے مدارس کے ذمہ
داران سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس کی ؟
یقینا وہ ان سوالات کا جواب نفی میں ہی دیںگے
تو وہ خود ذرادل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا
صحافتی پیشے اور صحافتی دیانت کا یہی تقاضہ ہے
کہ آپ بلا تحقیق الزامات اور اتہامات کی
بوچھاڑ کرتے چلے جائیں اور محض بدنیتی کی
بناءپر دوسرے فریق کے بارے میں حقائق کو توڑ
مروڑ کرپیش کریں ؟
محترم شفقت محمودنے اپنے کالم میں مدارس کو
بند کرنے ،مدارس کو ختم کرنے اور ان کے خلاف
کارروائی کرنے کے جو خواب دیکھے ہیں اس طرح کے
خواب ان سے قبل بھی بہت سے لوگ دیکھ چکے لیکن
وہ ان سہانے سپنوںکو اپنے سینوں میں لیے زمین
کی پاتال میں اتر گئے اور انشاءاللہ شفقت
محمود کے بھی یہ خواب کبھی شرمندہ
تعبیرنہیںہوں گے کیوں کہ مدارس تو قرآن وحدیث
کے علوم سیکھنے سکھانے کا نام ہے اورجب تک
قرآن وحدیث موجود ہیںاس وقت تک مدارس بھی
موجود رہیںگے کیونکہ قرآن کریم کی حفاظت کا
ذمہ لینے والے رب کی طرف سے ان مدارس کی حفاظت
کی جاتی رہے گی اورکسی سیکولر اور لبرل
انتہاپسند کا غیض وغضب مدارس دینیہ کاکچھ نہیں
بگا ڑ پائے گا ۔انشاءاللہ
|