اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

 

تاریخ اشاعت:۔11-01-2010

جادو ٹونا

قرآن پاک کی ابتدائی سورہ البقرہ میں مسلمانوں کو احکام شریعت دینے سے پہلے یہود کا تفصیلی تذکرہ فرمایا اوران کی ایک ایک برائی گنائی‘ تاکہ مسلمان ان برائیوں سے بچیں۔ آیات 102,101 میں فرمایا :
’’101۔ اور جب ان کے پاس اللہ (تعالیٰ) کی طرفسے ایک رسول (جناب رسولؐ پاک) آئے تصدیق کرتے ہوئے اس(کتاب) کی‘ جو ان کے پاس ہے‘ توان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی تھی (یعنی یہود) ایک گروہ نے اللہ (تعالیٰ) کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا‘ جیسے وہ اسے جانتے ہی نہ ہوں۔ (یعنی انہوں نے توریت میں حضورؐ اکرم کے بارہ میں پیش گوئی اور آنجنابؐ کا ساتھ دینے کے احکام کو بالکل نظرانداز کردیا)
’’-102 اور وہ اتباع کرنے لگے اس چیز کی جو شیاطین سلطنت سلیمانؑ میں پڑھتے تھے۔ اور سلیمانؑ نے کفر نہیں کیاتھا بلکہ شیاطین نے کفر(کا یہ راستہ) اختیار کیا تھا… وہ لوگوں کو سحر سکھاتے تھے۔
’’نیزوہ پیروی کرنے لگے اس چیز کی جو بابل (شہر) میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پرنازل کی گئی تھی اور دونوں (فرشتے) وہ چیز سکھانے سے پہلے ہر شخص کو (جو اسے سیکھنا چاہتا) کہہ دیتے تھے ہم تومحض فتنہ (آزمائش) ہیں‘ پس تو (اس علم کو سیکھ کر) کفرکا مرتکب نہ ہو۔’’مگر لوگ (پھر بھی) ان سے (وہ علم) سیکھتے‘ جس سے وہ مرد اور اسکی زوجہ میں تفرقہ ڈال دیں۔ ’’حالانکہ وہ اس (علم) سے اللہ (تعالیٰ) کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور وہ ایسی باتیں سکھاتے‘ جو ان (سیکھنے والوں) کو نقصان پہنچاتیں اور نفع نہ دیتیں۔ اور وہ (اچھی طرح سے) جانتے تھے کہ جو کوئی یہ علم خریدتا ہے‘ اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں رہتا‘ اور یقینا برا ہے وہ جو وہ اپنی جانوں کے بدلے خریدتے ہیں (یعنی جادو) اگر وہ جانتے‘‘
ان آیات سے مندرجہ ذیل امور واضح ہوتے ہیں۔
-1 جادو ٹونا کفر ہے۔-2 جادو ٹونا کرنے والا آخرت میں راندہ درگاہ ہے۔-3 جادو ٹونا سے کسی کو فائدہ نہیں… نہ کرنے والے کو اور نہ جس پر کیا جائے۔ -4 یہ صرف نقصان پہنچانے کیلئے کیا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔-5 جن عادات کی وجہ سے یہود اللہ تعالیٰ کے غضب میں آ گئے تھے‘ ان میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو چھوڑ دیا اور جادو ٹونے کے پیچھے پڑ گئے۔
افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ موجودہ دور میں جو روشنی کا دور کہلاتا ہے اور جس میں اسلام کی تعلیمات کا بھی بہت چرچا ہے‘ بہت سے مسلمان (جن میں پڑھے لکھے جاہل بھی شامل ہیں) جادو ٹونے کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اسکے ذریعہ نقصان پہنچنا یا نہ پہنچنا تواللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے‘ مگر یہ لوگ اپنے آپ کو ضرور نقصان پہنچا لیتے ہیں۔ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور اپنی عاقبت خراب کرلیتے ہیں۔