بلوچستان کو دیگر صوبوں سے ملانے والے راستے تاحال بند

کوئٹہ: ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث صوبہ بلوچستان کو پنجاب، خیبر پختونخوا اور افغانستان سے ملانے والے زمینی راستے مسلسل دوسرے روز بھی بند رہے۔

بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز صوبائی وزیر بلدیات سردار مصطفیٰ ترین کے بیٹے اسد خان ترین کے اغوا کے باعث ہڑتال پر ہیں۔

اسدترین کو مسلح افراد نے دو ہفتے قبل پشین سے اغوا کرلیا تھا، جبکہ ان کی گاڑی کیڈٹ کالج پشین کے قریب سے ملی تھی، جہاں وہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث بلوچستان کو ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان اور قندھار سے ملانے والے راستے ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند رہے، جس کے باعث بال بردار ٹرکوں اور مسافر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

احتجاج کرنے والے سیکڑوں افراد نے برے بڑے پتھروں سے کوئٹہ ۔ چمن ہائی وے بلاک کردی، جبکہ چمن سے ژوب، پشین، قلعہ عبد اللہ اور لورالائی جانے والے راستے بھی بند رہے۔

آل پارٹیز ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کوئٹہ ۔ چمن شاہراہ کو کھوجک پاس کے مقام پر احتجاج کرکے بند کردیا، جس کے باعث کوئٹہ کو افغانستان سے ملانے والے ہائی وے بھی بلاک ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.