پاکستان زینب قتل کیس: سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

تفصیلات کے مطابق قصور میں چند روز قبل اغوا اور بعد ازاں زیادتی و قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کے خلاف سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروا دیا گیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے جمع کروایا۔
نوٹس کے متن کےمطابق قصور میں 7 سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا، حیران کن بات ہے ایک سال میں قصور میں 10 واقعات ہوئے۔
نوٹس میں شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات تشویش ناک اور پریشان کن ہیں۔ ایسے تمام واقعات کی مکمل تحقیقات ضروری ہے۔
متن میں کہا گیا کہ سنگین واقعے پر وزیر قانون و انصاف ایوان میں جواب دیں۔
یاد رہے کہ قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی شہری 7 سالہ زینب 5 جنوری کی شام ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہیں لوٹی۔ بچی کے والدین عمرے کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے جبکہ بچی اپنی خالاؤں کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔
چار روز بعد بچی کی لاش قصور کی ایک کچرا کنڈی سے دریافت ہوئی۔ پولیس کے مطابق بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
لاش ملنے کے بعد گزشتہ 2 روز سے قصور میں حالات سخت کشیدہ ہیں اور شدید احتجاج جاری ہے۔
بچی کی نماز جنازہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے پڑھائی تھی۔ والدین اور اہل علاقہ نے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں