احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو لکھی ہوئی رپورٹ دی گئی، اگر انہیں آج رپورٹ لکھنے کا کہا جائے تو وہ اس کے 5 صفحات بھی نہیں لکھ سکتے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سستی شہرت کےلیےایک رپورٹ پیش کردی گئی، ویسےبھی پکڑتےپاناما میں اور نکالتےاقامہ میں ہیں۔
کیپٹن صفدر کا کہنا تھا کہ آج قوم دیکھ رہی ہے22کروڑعوام کےاعتمادکوٹھیس پہنچی،اب لگ رہاہے22کروڑعوام کو نوٹس دیناپڑےگا ۔
جس معاشرےمیں انصاف نہ ہووہ قائم نہیں رہ سکتا، ہم عدالتوں کااحترام کرتےہیں۔انھوں نے کہا کہ عدلیہ توبحال ہوگئی مگرآگےکاکام نہیں چل سکا ۔
کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ کبھی دھرنے اور کبھی نیوز لیکس، ہمارے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں، ملک کے حالات جب بھی بدل رہے ہوتے ہیں تو وزیراعظم یا تو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے، کبھی ہائی جیکر بن جاتا ہے اور کبھی نااہل ہوجاتا ہے۔


