ملک بچے گا یا پھر کرپٹ عناصر، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے خطاب میں ملک کو درپیش مسائل سے آگاہ کروں گا. وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کےتمام کارکنوں کاشکریہ اداکرتاہوں۔ 22 سال پہلے جو کارکن اس جہاد میں میرے ساتھ شریک ہوئے کچھ ہم میں موجود نہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیاست کو کبھی بھی کیریئرنہیں سمجھا۔ ہم اپنےملک کوعلامہ اقبال کےخواب کےمطابق بناناچاہتےہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ملک کودرپیش مسائل کےحوالےسے بتاناچاہتا ہوں۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنےمشکل مالی حالات نہیں تھے۔
پاکستان پرقرضہ 6 ہزارارب سے بڑھ کر28 ہزارارب ہوگیاہے جبکہ ملکی قرضہ اتارنے کے لیے سود پربھی قرضہ لےرہےہیں۔ انھوں نے کہا کہ حالت اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ ہم اپنےبچوں کوپینےکا صاف پانی، روزگارنہیں دے سکتے۔ ملک کوتباہی سےبچانےکےلیےسوچ کوبدلناہوگا۔ ملک میں سوا2 کروڑبچےاسکول نہیں جاتے۔
انھوں نے کہا کہ ہم اپنےبچوں کوپینےکاصاف پانی اور روزگار نہیں دے پا رہے ہیں۔ ہمیں اپنے طور تریقے بدلنے پڑیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنا نہیں چاہتے۔
عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے524 ملازم ہیں۔وزیراعظم کے پاس 33 بلٹ پروف سمیت 80 گاڑیاں ہیں۔ ہربلٹ پروف گاڑی کی قیمت 5 کروڑ روپےسےاوپرہے۔ ہمارے ڈی سی، کمشنربڑے بڑے گھروں میں رہتےہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کاسامناہے جبکہ پاکستان گلوبل وارمنگ سےمتاثرہونےوالا 7واں ملک ہوسکتاہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں خود کواحتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ حکمران قانون سے اوپرنہیں اورعوام کوجوابدہ ہیں۔ امیراورغریب کے لیے قانون یکساں ہوناچاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں حکمران اقتدارمیں پیسہ بنانے کےلیےآتےتھے۔ اقتدار سے اپنی ذات کو فائدہ نہیں پہنچایا جاسکتا۔ انھوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست یتیموں، بیواؤں کی مدد کرتی تھی۔ جو قانون مدینہ میں بنائے گئے تھے وہ آج مغرب میں ہیں۔
کرپٹ لوگوں کو پکڑیں گے۔ جب ان افراد کو پکڑا جائے گا تو شور مچائیں گے۔ ان کرپٹ افراد پر ہاتھ ڈالا جائے گا، آپ نے ہمارا ساتھ دینا ہے۔ ممکن ہے یہ لوگ سڑکوں پر آئیں اور ہر قسم کی سازش کریں۔
یا یہ ملک رہے گا یا یہ کرپٹ مافیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے کسی ایسے لیڈر کو ووٹ نہیں دینا جن کی جائیداد ملک سے باہر ہو۔
عمران خان نے کہا کہ میں اپنے گھر میں رہنا چاہتا تھا مگر سیکیورٹی خدشات کے باعث ملٹری کوارٹر میں رہوں گا۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں 2 ملازم اور2 گاڑیاں رکھوں گا۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے لیے موجود گاڑیوں کی نیلامی کریں گے اور وزیراعظم ہاوس کی جگہ اعلیٰ قسم کی یونیورسٹی بنائیں گے۔
حکومت عوام کو پہلے اور بعد کے اخراجات سے آگاہ کرے گی۔ ہمیں اپنے اخراجات کم کرنے ہیں اور نئے پاکستان میں نئی سوچ کی ضرورت ہے۔
عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ملک بچانا ہےتوٹیکس دیناہوگا۔ آپ کے ٹیکس کی میں خود حفاظت کروں گا۔عوام کا ٹیکس عوام پرخرچ کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ملک سےہرسال1 ہزارارب ڈالرچوری ہوکربا ہر لے جایا جاتا ہے۔ جس کا پیسہ ہے،وہ وفادارنہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کولائیں گے اور لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس کا اعلان کرتے ہیں۔ کئی پاکستانی بر ممالک میں جیلوں میں قید ہیں۔ ہم چاہتےہیں اپناپیسہ پاکستان میں لائیں تاکہ ہمیں کسی کےسامنے ہاتھ نہیں پھیلانے پڑیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن کی نشاند ہی کرنے والے کو 20 فیصد انعام دیا جائےگا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جلد چیف جسٹس سےملاقات کریں گے تاکہ زمینوں پر غیر قانونی کیے گئے قبصوں سے عوام کو چھٹکارا دلوایا جا سکے۔ کیس میں سست روی کی وجہ سے انسان دنیا سے چلا جاتا ہے مگر کورٹ میں فیصلہ نہیں ہوپاتا۔
انھوں نے کہا کہ کئی بیواؤں کی زمینوں پرقبضےکیےہوئے ہیں۔ چیف جسٹس ان بیواؤں کی مدد کریں۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کے پی پولیس میں بہت تبدیلی آئی ہے اورکے پی کےعوام کا پولیس پراعتماد بحال ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سابق آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ناصر درانی کی خدمات حاصل کی جائیں گی جبکہ انہیں پنجاب حکومت کی کابینہ میں بطور مشیر شامل کیا جائے گا۔
تعلیمی نظام کو بہتربنانے کے لیے عمران خان نے کہا کہ ہمارے سوا 2 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ گورنمنٹ اسکولز کو بہتر بنائیں گے اور مدارس کے نظام میں بھی بہتری لائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ مدارس کو مدارس تک نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچے انجینیرز ڈاکٹرز اور فوجی جرنیل بنیں مدارس کے نظام کو بھی بہتر بنائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ بچوں سےزیادتی کےواقعات میں اضافہ ہورہا ہےقوم کےساتھ ظلم نہیں ہونےدیں گے۔
مران خان کا کہنا تھا کہ ملک بھرمیں صحت کارڈز متعرف کروائیں گے تاکہ عوام کے مسائل میں کمی لا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنے سرکاری اسپتالوں کا نظام بہتربنانا ہے، کے پی اور پنجاب میں ہماری حکومت ہے وہاں خود نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدار کریں گے اور سندھ حکومت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ اپنا نظام درست کریں۔
عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران پورے ملک کے غریب گھرانوں کے لیے ہیلتھ کارڈ کا بھی اعلان کیا۔
کسانوں سے متعلق خطاب میں عمران خان نے کہا کہ کا شکاری کے نظام میں بھی نئی جدت لائیں گے۔ غریب کسان کےخرچےکم اور پیداوارکی قیمت بڑھائیں گے اور کسانوں کی ہرطرح سےمدد کریں گے۔
ہمارے کسان کاشکاری کے لیے بھارت سے بیج لینے پر مجبور ہیں۔ ہم کسان کو نئے کاشکاری کے طریقے سیکھائیں گے تاکہ پانی اور دیگر زخائر کم خرچ کر کے فصل کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کی جاسکے۔
عمران خان نے کہا کہ سول سرونٹس صرف ملک کے لیے کام کریں۔سول سرونٹس عام آدمی کوانسان سمجھیں اور عزت دیں۔ انھوں نے کہا ک ناظم کا الیکشن براہ راست کروائیں گے۔ ایم این اے، ایم پی اے کو ڈویلپمنٹ فنڈ نہیں دیےجاتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کو بہترین ضرور بہتر بنائیں گے۔
عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 سال میں 50 لاکھ سستے گھر بنائیں گے اور نوجوانوں کوروزگارفراہم کریں گے۔ نوجوانوں کوسود کے بغیر قرضے دیں گے۔
.انھوں نے کہا کہ بچوں کےلیےپارکس اور کھیلوں کےلیےگراؤنڈزبنائیں گے۔ سیاحت کوفروغ دیں گے۔ ہر سال 4 ریزورٹس بنائیں گے ۔انھوں نے کہا کہ فاٹا اور کے پی کوجلدضم کیا جائے گا۔
عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں حالات بہت برے ہیں۔ حالات بہتر بنانے کے لیے ناراض لوگوں کوساتھ ملائیں گے اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے کام کریں گے۔
ہمسایہ ممالک سے متعلق عمران خان نے کہا کہ ہمسایوں کےساتھ تعلقات بہترکریں گے اور پاکستان کوفلاحی ریاست بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ سادہ ترین زندگی گزارکردکھاؤں گا تاکہ تبدیلی حقیقی معنیوں میں آئے۔
اپنے خطاب میں عمران خان نے واضع الفاظ کہا کہ عوام کا ایک ایک پیسہ بچاؤں گے اوراقتدار میں رہتے ہوئے کسی طرح کا کاروبارنہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ کاروبارکرنےوالاحکمران ملک کونقصان پہنچاتاہے۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت داخلہ میرے پاس رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.