نیتن یاہو پر’عدم اعتماد’،اسرائیلی وزیر دفاع مستعفی

یروشلم: اسرائیل کے وزیر دفاع موشے یالون نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر ‘عدم اعتماد’ کا حوالہ دے کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کافی عرصے سے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ موشے یالون کو جلد ہی ان کے عہدے سے ہٹایا جانے والا ہے۔

موشے یالون نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ انھوں نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ ‘کچھ حالیہ مواقعوں پر ان کے طرزِ عمل اور ان پر عدم اعتماد کی وجہ سے وہ حکومت اور کینسٹ (KNESSEST) یعنی اسرائیلی پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے کر سیاسی زندگی سے دوری اختیار کر رہے ہیں’۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو اور یالون کے درمیان حالیہ چند دنوں کے دوران عوامی معاملات میں فوج کے کردار کے حوالے سے تنازعات نے جنم لیا، جہاں وزیراعظم نیتن یاہو کا خیال تھا کہ فوجی افسران کو عوامی پالیسی کے معاملات پر بحث نہیں کرنی چاہیے۔

دونوں کے درمیان کشیدگی رواں برس مارچ میں اُس وقت شدت اختیار کرگئی جب فوجی افسران نے ایک سپاہی پر تنقید کی جسے ایک ویڈیو میں پہلے سے ہی زخمی فلسطینی کو گولیاں مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

مذکورہ سپاہی کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے، موشے یالون نے فوجی افسران کی حمایت میں آواز اٹھائی تھی، جبکہ دیگر سخت گیر حکمرانوں نے سپاہی کی حمایت کی تھی۔

دوسری جانب گذشتہ چند روز سے رپورٹس سامنے آرہی تھیں کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے سابق وزیر خارجہ ایویگڈور لائبرمین کو وزیر دفاع کے عہدے پر تعینات کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

57 سالہ لائبرمین ملک کے ایک مشہور سیاستدان ہیں، جو 3 دہائیوں سے زائد عرصے سے کبھی نیتن یاہو کے قریبی ساتھی تو کبھی ان کے شدید حریف رہ چکے ہیں۔

رواں ہفتے نیتن یاہو نے لائبرمین کی الٹرانیشنلسٹ اسرائیل بیٹینو (ultranationalist Yisrael Beteinu) پارٹی کو اپنے پارلیمانی اتحاد میں شرکت کی دعوت دی تھی اور مذاکراتی ٹیمیں اس اتحاد کی تفصیلات کے حوالے سے بات چیت میں مصروف ہیں۔

موشے یالون کے استعفیٰ سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ پارٹی پر سخت گیر حکمرانوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ کابینہ کی ایک وزیر گِلا گیملیئل کا کہنا ہے کہ یالون کا جانا حکمران جماعت لیکوڈ پارٹی کے لیے ایک ‘بہت بڑا نقصان’ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یالون کو کسی اور عہدے کی آفر نہ کرنا اور انھیں اتحاد میں شامل نہ رکھنا ایک ‘غلطی’ ہے۔

واضح رہے کہ بہت سے اسرائیلیوں نے یالون کی جگہ لائبرمین کو بحیثیت وزیر دفاع تعینات کرنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں، کیونکہ یالون سابق آرمی چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں اور فوجی معاملات میں ان کی معلومات کا احترام کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی ٹی وی اسٹیشنز پر نشر کیے گئے پولز کے مطابق زیادہ تر اسرائیلیوں نے یالون کو بحیثیت وزیردفاع لائبرمین پر ترجیح دی۔

لائبرمین کے سخت گیر موقف نے انھیں اسرائیل میں تو طاقتور آواز بننے میں مدد دی لیکن اسی موقف کی بناء پر بعض اوقات اسرائیل کو اپنے دیگر اتحادیوں سے الگ تھلگ کردیا۔

انھوں نے اسرائیل کی عرب اقلیت کی وفاداری پر سوال اٹھایا اور اسرائیل پر تنقید کرنے والے غیر ملکی ناقدین کی تنقید کا سامنا کیا، انھوں نے فلسطینیوں کے ساتھ امن کے قیام کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور اب وہ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں ملوث عربوں کو سزائے موت دینے کی تجویز پر بھی زور دے رہے ہیں۔

اور اب جبکہ اسرائیل-فلسطین امن کی کوششیں پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں، لائبرمین کی حکومت میں شمولیت سے امن مذاکرات کی بحالی مزید دوری پر چلی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں