89

طبی ماہرین نے ’’ایسپرین‘‘ کے مزید فوائد دریافت کرلیے

لندن: دنیا بھر میں ایسپرین کو جادوئی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بہت سے فوائد آئے دن دریافت ہوتے رہتے ہیں جب کہ عالمی ماہرینِ طب کے مطابق ایسپرین پر مزید مطالعے اور تحقیقات ہورہی ہیں اور اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
اسپرین کو پہلے گٹھیا اور جوڑوں کے درد کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا پھر ہر قسم کا درد کم کرنے میں اس کے فوائد سامنے آئے ۔ یہ دوا درد پیدا کرنے والے کیمیکل تھرومبوکسینس کو روکتی ہے جو درد اور جلن کی وجہ بنتے ہیں لیکن اس کے درج ذیل فوائد اور طبی استعمال بھی اب تسلیم کیے جاچکے ہیں۔
مائیگرین میں بھی مفید:
آدھے سر کے درد کو مائیگرین اور میگرین دونوں ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اگر ایسپرین کو مائیگرین دور کرنے والی لیکن ڈاکٹر کی تجویز کردہ ’’سوماپٹریپٹان‘‘ کی جگہ استعمال کیا جائے تب بھی یہ آدھے سر کے درد میں مفید ثابت ہوتی ہے۔
برطانوی ماہرین کے مطابق ایسپرین نہ صرف دردِ سر کو ختم کرتی ہے بلکہ روشنی سے ہونے والے سر کے درد کو بھی کم کرتی ہے جو مائیگرین کی اہم علامت ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو شدید مائیگرین کی شکایت ہے تو دن میں 2 مرتبہ ایسپرین کی 300 سے 600 ملی گرام مقدار کھائی جاسکتی ہے لیکن اس سے ذیادہ ایسپرین لینے سے گریز کیا جائے۔
دل کے دورے سے بچاؤ:
خون کے خلیات کے ننھے منے ٹکڑے پلیٹلٹس کہلاتے ہیں جو مل کر خون کے لوتھڑے بناتے ہیں۔ یہ لوتھڑے نہ صرف امراضِ قلب بلکہ فالج اور بلڈ پریشر کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ تاہم ان امراض میں طرز زندگی، وزن، ورزش نہ کرنے جیسے دیگر عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ خون کے لوتھڑے قلبی شریانوں کو بند کرکے دل کے دورے کی وجہ بن سکتے ہیں لیکن ایسپرین خون کے لوتھڑے بننے کے عمل کو بھی روکتی ہے۔
امریکی ڈاکٹروں کی ایک ٹاسک فورس نے تجویز کیا ہے کہ اگر آپ کی عمر 50 سے 59 برس ہے اور دل کے دورے کا خطرہ ہے تو آپ روزانہ ایسپرین کی ہلکی مقدار کھاسکتے ہیں جس کے فوائد حاصل ہوں گے۔ اگر بلڈ پریشر زیادہ رہتا ہے اور کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہے تب بھی آپ ایسپرین کھاسکتے ہیں اس کے لیے 75 ملی گرام خوراک کافی ہوگی۔
کینسر سے بچاؤ:
اگرچہ یہ عمل مکمل طور پر نہیں سمجھا گیا لیکن خیال یہ ہے کہ ایسپرین سرطان جیسے موذی مرض سے بچاتی ہے۔ امریکا اور یورپ کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر 10 سال تک لوگ معمول کے تحت ایسپرین کھاتے ہیں تو اس سے کینسر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اینلز آف اونکولوجی نامی جرنل میں 2014 میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا کہ اگر طویل عرصے سے ایسپرین کھائی جائے تو پیٹ، ہاضمے کی نالی اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ ایک تہائی رہ جاتا ہے۔
برطانوی طبی ماہر کے مطابق ایسپرین سے بریسٹ اور پروسٹیڈ کینسر کا خطرہ 10 فیصد تک ٹل سکتا ہے کیونکہ ایسپرین کینسر کو روکنے میں بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
اسٹروک اور فالج کے چھوٹے دوروں سے حفاظت:
بعض اوقات دماغ میں خون کے لوتھڑے پھسلنے سے فالج کے کم وقتی اور مکمل اپاہج کرنے والے دورے پڑسکتے ہیں۔ اگر کوئی معمولی فالج (اسٹروک) کا شکار ہوتا ہے تو اس کے بعد ایسپرین فالج کے مزید دوروں سے بچ سکتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 56 ہزار مریضوں پر ایسپرین کے 15 تجربات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ایسپرین دماغ میں رگوں کو کھلا رکھتی ہے اور خون کے لوتھڑے بننے کو روکتی ہے۔ اسی لیے فالج کے مریضوں کو ایسپرین دینے کے غیرمعمولی فوائد سامنے آتے ہیں۔
اسقاطِ حمل سے بچاؤ:
حاملہ خواتین میں خون کے لوتھڑے بننے کی کیفیت ہیوزسنڈروم کہلاتی ہے اور ایسی خواتین میں بار بار حمل ضائع ہوجاتا ہے۔ لندن کے وومن کلینک کے میڈیکل ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ایسپرین خون کو پتلا کرتی ہے اور اس طرح اسقاطِ حمل کا خطرہ کم کم ہوجاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے کئی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ ایسپرین کو اگر خون پتلا کرنے والی دوا کو ہیپارن کے ساتھ دیا جائے تو اس سے حمل گرنے کا خدشہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے تاہم کوئی بھی حاملہ خاتون ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر یہ دوا استعمال نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں