اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-

Telephone:-  92-300-2248711       

 

 

 
 
 
   
 

 

 
 
 

 

 
 
   
 

 

 

تاریخ اشاعت12-08-2010

ماہ رمضان اور ہماری ذمہ داریاں

کالم۔۔۔  مولانا قاری محمد حنیف جالندھری

 

رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا۔ یہ مبارک مہینہ اپنے ساتھ برکات و انوارات کی بہاریں لے کر جلوہ گر ہو چکا۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ اس کا شایانِ شان استقبال بھی کریں اورقدر بھی کریں۔ حضور اقدس ﷺ کا تو یہ معمول تھا کہ دو مہینے پہلے سے ہی اس کا انتظار شروع فرمادیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت انسؓ سے منقول ہے جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی کریم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ ”اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرمائیے اور ہمیں رمضان تک پہنچائیے۔ “رسول اللہ کے استقبال رمضان کا یہ انداز تھاکہ آپ ﷺ ہمیشہ شعبان کے اختتام پر صحابہ ؓ کو جمع کرتے اوررمضان کے متعلق ہدایات دیتے، شوق و رغبت دلاتے، فضائل ووظائف کی تلقین کرتے۔
حضرت سلمانؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایاکہ” تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے، جو بہت بڑا مہینہ ہے، بہت مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا۔ اور اس کی رات کے قیام کو ثواب کی چیز بنایاہے ۔ جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو اداکرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے۔یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے، اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے کا اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ملے گا مگر روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی“۔ صحابہ نے عرض کیا” یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ثواب تو اللہ ایک کھجور سے کوئی افطار کرائے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلا دے اس کو بھی مرحمت فرمادیتے ہیں“
یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام کے بوجھ کو ہلکا کر دے اللہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزاد ی عطا فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی کہ چار چیزوں کی اس میں کثرت سے کیا کرو۔ جن میں سے دوچیزیں اللہ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بغیرتمہارا گزارہ نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو، وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے ۔دوسری دوچیزیں طلب جنت اور آگ سے پناہ مانگنا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ قیامت کے دن میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی“
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ” ایک مرتبہ حضور ﷺ نے رمضان المبارک کے قریب ارشاد فرمایا” رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ جو بڑی برکت والا ہے حق تعالیٰ شانہ اس میں تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی خاص رحمت نازل فرماتے ہیں۔ خطاو ¿ں کو معاف فرماتے ہیں۔ دعا کو قبول کرتے ہیں، تمہارے تنافس (مقابلہ کے طور پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش) کو دیکھتے ہیں اور تمہاری وجہ سے ملائکہ پر فخر کرتے ہیں پس اللہ کو اپنی نیکی دکھلاو ¿ !بد نصیب ہے وہ جو شخص جو اس مہینہ میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔“
اسی طرح حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”رمضان المبارک کی ہر شب و روز میں اللہ کے یہاں سے (جہنم کے) قیدی چھوڑے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کے لئے ہر شب و روز میں ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔“ ایک حدیث شریف میں ہے کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی۔ (۱) روزہ دار کی افطار کے وقت (۲) عادل بادشاہ کی(۳) مظلوم کی.... حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”روزہ آدمی کے لئے ڈھال ہے۔ جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔“ ایک روایت میں وارد ہے کہ کسی نے عرض کیا کہ روزہ کس چیز سے پھٹ جاتا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ”جھوٹ اور غیبت سے۔“
نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگوںکو یہ معلوم ہو جائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہو۔ آپ علیہ السلام رمضان کے لئے بڑا اہتمام فرماتے تھے، نیکیوں میں سبقت کی صحابہ کو ترغیب دیتے تھے۔مجاھدہ و ریاضت میں شدت آ جاتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ نازل شدہ قرآن کا دور ہوا کرتا تھا۔ یہی رنگ ہمیں صحابہ کرامؓ، خلفائے راشدین، تابعین، تبع تابعین، آئمہ مجتہدین اور اکابرین عظام کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے رمضان کو صبر کا مہینہ فرمایا، اور صبر کا بدلہ جنت ہے، فرمایا یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ جبکہ موجودہ معاشرے میں ان دونوں چیزوں کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ رمضان میں عام دنوں کے مقابلے میںزیادہ لڑائیاں ہوتی ہیں،زیادہ بے صبری کا مظاہرہ کیاجاتا ہے ،زیادہ سبب عدم برداشت سے کام لیا جاتا ہے۔ چھوٹی سی بات ہوتی ہے لیکن بڑھ جاتی ہے اور بڑے نقصان کا موجب بن جاتی ہے، معمولی معمولی باتوں پر جھگڑے کھڑے ہو جاتے ہیں ، اگر کوئی آدمی صبح سحری میں تاخیر سے اٹھا اور سحری نہ کر سکا سارا دن اپنا ڈھنڈورا پیٹے گا،کسی نے افطاری کروا دی تو وہ اس کی تشہیر کرے گا ،اپنے سٹیٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے مالدار لوگوں کو بلائے گا ،اسراف اور فضول خرچی کا ارتکاب کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں افطاری کے لیے ڈھنگ کی کوئی چیز ہی میسر نہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کو دوسروں کے ساتھ غم خواری کا مہینہ قراردیا ہے لیکن اگر ہم غور کریں توایثار وہمدردی اور غمخواری کے جذبے بالکل ہمارے معاشرے میں نظر ہی نہیں آتے ۔ ہر بندہ اپنے دائرے میں گھوم رہا ہے دوسرے کے بارے میں کسی کو فکر ہی نہیں۔اشرافیہ سے لے کر ادنیٰ کلاس تک ہر انسان بے چینی اور اضطرابمیں مبتلاءہے ۔ رمضان میں تو غم خواری کے بجائے دوسرے کے غموں اور پریشانیوں میں اضافہ ہی کیا جاتا ہے، رمضان کا استقبال اشیائے خورد و نوش کے مہنگا کرنے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ نیکیوں کے اس سیزن کو کرپشن مافیا عوام کی لوٹ مار کے ساتھ گزارتا ہے ،ذخیرہ اندوزی عام ہو جاتی ہے ، ہم دوسرے مذاہب کے مذہبی تہواروں کو دیکھیں تو وہ لوگ زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرتے ہیں تا کہ اعلیٰ طبقے سے لے کر ادنیٰ طبقے تک ہر فرد اس خوشی میں شریک ہو سکے لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے اس لیے ہمیں ابھی سے یہ تہیہ کرنا چاہیے کہ ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ اعمال کااہتمام کریں گے،اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی وشش کریں گے ،مرد عورتیں سب فرض زکوة کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کریں گے ،صبر اور برداشت کا مظاہرہ کریں گے،دوسروں کے ساتھ ہمدری اورخیر خواہی کے ساتھ پیش آئیں گے بالخصوص سیالاب زدگان اور دیگر قدرتی آفات میں مبتلاءمسلمانوں کی بڑھ چڑھ کر خدمت کریں گے اور اللہ کی طرف رجوع اور توبہ واستغفار کا اہتما م کریں گے اگر ہم یہ سب کچھ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقیناہم خوش نصیب ہلون گے ورنہ خطرہ ہے کہ کہیں ہم جبریل امین کی اس بددعا کی زد میں نہ آجائیں جس میں رمضان المبارک میں محروم رہنے والے کے لیے ہلاکت کی دعا کی گئی اور آپ صلی ا للہعلیہ وسلم نے اس پر آمین کہی تھی۔

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team