|
|
|
|
|
|
|
تاریخ اشاعت:۔04-01-2009 |
|
نائن الیون
سے سانحہ مہلوکین تک
روف عامر پپا بریار |
|
سابق قاتل اعظم بش رجیم کا خاتمہ موجودہ
سیاہ فام صدر باراک حسین اوباہ کی ایک سال پہلے جیت پر متنج ہوا تو
پوری دنیا میں خوشگوار احساس خوشبو بن کر دلوں میں مہکنے لگا کہ اوبامہ
جس کی فتح کی بنیاد ہی امریکہ کے جنگی جنون میں فوری تبدیلیوں کی صورت
میں ظہور پزیر ہوئی تھی اپنے وعدوں کو عملی شکل میں ڈھالیں گے۔عالم
اسلام میں بھی خوش فہمی کے ڈھول پیٹے گئے کہ ناٹو فورس عراق و
افغانستان سے بے نیل و مرام نکل جائیگی مگر ساری خوشیاں و خوش گمانیاں
صرف فتنہ۰ سامانیاں ثابت ہویں ۔لٹیرے لٹیروں کے بھائی اور گائے گائیوں
کی بہن ہوتی ہے۔یوں اوبامہ کی طرف سے عالم اسلام میں بہنے والی خونزیری
کا خاتمہ تو کجا صدر امریکہ نے بش کی تقلید کرتے ہوئے کابل کے لئے
30000 فوجیوں کے قافلے کی منظوری دیکر سامراجیت و طاغوت کی یاد تازہ
کردی۔اوبامہ نے تو بش کو بھی مات دے دی ۔کابل میں ناٹو فورسز زہنی طور
پر شکست تسلیم کر چکی ہے اور یہ بھی یقین واثق ہے کہ نئے فوجی لشکر
طالبان کو کسی صورت میں چت نہیں کرسکتے اور یہی افغانستان جارح فوجوں
کا قبرستان بنے گا۔حال ہی میں امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے خود کش
حملے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اوبامہ کی نیوبرانڈ فوجی لشکر نہ تو
طالبان سے نبزدازما ہونے کی ہمت و طاقت رکھتا ہے اور نہ ہی قابضین
طالبان کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں کامیاب ہونگے۔امریکی اڈے کے
خود کش حملے میں cia کے8 اہلکار زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔امریکی ترجمان
ایان کیلی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ حملہ پاک افغان سرحد کے نذدیک
امریکی فوجی اڈے پر ہوا۔یوں تو قابض لشکر کے سورماپچھلے8 سالوں سے
افغانستان میں مصلوب ہورہے ہیں مگر موجودہ حملہ مختلف نوعیت اور زومعنی
شکل رکھتاہے۔موسم سرما میں موسمی اثرات طالبان کے حملوں میں توقف ہوتا
ہے مگر اس شاہینی حملے نے گوروں کو بوکھلاہٹ و تذبذب اور زہنی خلجان سے
دوچار کردیا ہے۔ بعین اسی روز طالبان نے قندھار میں نقب لگائی اور چار
کینیڈین کو فنا کے تختے پر لٹکا دیا۔نائن الیون کے بعد امریکہ اپنے
اتحادیوں اور روئے ارض کے ہولناک جنگی زخائر کے ساتھ افغانستان پر
اٹپکا۔شمالی اتحاد اور افغان پٹھو فورس کو ہراول دستے کا کردار دیکر
برطانیہ و امریکہ نے کابل پر تسلط جمایا۔اتحادیوں نے القاعدہ و طالبان
کا وجود مٹانے کے لئے ایک طرف اگر خطہ افغان کے ایک ایک انچ پر کارپٹ
بمباری کی تو دوسری طرف گوری فوج کے بھیڑیوں نے تاریخ کے خونی ابواب
میں سفاکیت و جبریت کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ فرعون ہٹلر اور ہلاکو
خان کی روحیں بھی تڑپ اٹھیں۔قابضین کے خلاف افغانوں نے اپنی جنگی
روایات کی رو سے گوریلہ جنگ شروع کردی۔دشمن کو مرضی سے اپنے من پسند
میدان میں لاکر بھگانا اور پھر مارنا، چھوٹے چھوٹے چھاپہ مار دستوں کے
ساتھ گھات لگا کر وار کرنا دشمنوں کو تھوڑے تھوڑے چرکے لگا کر تھکادینا
افغان قوم کے پسندیدہ و دلدادہ جنگی شوق ہیں۔ایسی پالیسیوں کی بدولت ہی
افغانوں نے ماضی کی سپرپاور برطانیہ کو تاریخ ساز شکست دی تو دوسری طرف
سرخ اندھیوں کے منہ زور طوفان کو بھی غیور افغانوںنے زور بازو سے روک
لیا کہ سرخ اندھی واپس پلٹ گئی اور پھر اور پھر اسی سرخ اندھی نے قیامت
خیز طوفان کی صورت میں سوشلزم کے ناقابل شکست دکھائی دینے والے قلعے
سوویت یونین کو تنکے تنکے کرڈالا۔اب تیسری سپرپاور وہاں اپنی بربادیوں
و رسوائی کا نوحہ پڑھ رہی ہے ۔جنگجووں نے ناٹو کے خلاف بھی ماضی کی
جنگی حکمت عملی کو اپنا رکھا ہے جس نے دنیا کی بڑی عسکری طاقتوں >ناٹو<کے
مشترکہ مجموعے تتر بتر کردیا۔بش کو تاریخی مقربین اور امن پسند
امریکیوں نے بار بار برطانیہ و سوویت یونین کے حشر سے سبق سیکھنے کی
صلاح دی مگر اسکی خونی پیاس نے افغاستان پر حملے کی ضد و انا کو قائم
رکھا۔لگتا ہے مسٹر سیاہ فام بھی تاریخ سے سبق سیکھنے کے موڈ میں
نہیں۔ناٹو کے افغان کمانڈرجنرل کرسٹل کی داد و فریاد پر اوبامہ نے کئی
ماہ کے غور وخوض کے بعد نئی فوج کی منظوری دے دی۔اوبامہ نے صہیونیت کی
تعصب پسند لابیوں کے سامنے اوبامہ بھی سربجود ہوگئے اور اپنی خجالت کی
بنیاد رکھتے ہوئے نئی افغان پالیسی کی منظوری دی حالانکہ اوبامہ کی
ڈیموکریٹ پارٹی اور کانگرس ممبران نے نئی افغان پالیسی کی پرزور مخالفت
کی۔تیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی اور اٹھارہ ماہ بعد واپسی کے اعلان نے
سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ جب کابل میں جیت کے امکانات معدوم
ہوچکے ہیں تب نئی فوج کو وہاں کے جہنم میں جھونکنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ
حقیقت ہے کہ کابل ماضی میں ہوشربا حالات سے دوچار رہا ہے۔یہاں حملہ اور
برطانوی ہو یا اشتراکی سلطنت کا زوال ہندوکش پہاڑوں سے ٹکرانے والا
درانداز کبھی زندہ سلامت واپس نہیں کیا جاتا۔دوسری طرف ناٹو فورس کے
پرچم تلے محواستحراحت44 ملکوں کی اتحادی فوجوں میں فکری و نظریاتی طور
پر پھوٹ پڑ چکی ہے ۔کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کا راج کابل کے صدارتی
محل تک سکڑ چکا ہے۔اندرونی حالات دگرگوں ہیں۔افغان کیبنٹ کے نامی گرامی
شرفا منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں۔یوں افغان قوم کا وہ حصہ جو
اتحادیوں کے اس نعرے پر مرمٹا تھا کہ یہاں جمہوریت کا سویرا ہوگا۔معاشی
و صنعتی انقلاب برپا ہوگا اور پسماندہ افغانی یورپینز کی طرح خوشحال
ہوجائیں گے اتحادیوں سے نفرت کرنے لگا ہے۔افغان حکومت کے مدح سرا بھی
ظلم در ظلم دیکھر اتحادیوں سے تنگ اچکے ہیں۔کرزئی انتظامیہ کے کارندوں
کی تحقیقاتی ٹیم نے ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ گورے فوجیوں نے دس افغان
شہریوں کو گھروں سے نکال کر گولیوں سے بھون دیا۔اس سے زیادہ قابل مذمت
تو سانحہ مہلوکین ہے جس میں18بچے سکولوں کے تروتازہ پھول تھے جنہیں بڑی
بے رحمی و وحشت کے ساتھ مسل دیا گیا۔ حالانکہ یہ معصومین نہ تو دہشت
گرد تھے اور نہ ہی انکے گھر کا کوئی ممبر القاعدہ ملیشیا کا سانجھے دار
تھا۔ تبدیلی کا نعرہ ہانک کر مسند وائٹ ہاوس پر براجمان ہونے والا
اوبامہ بھی سابق جنونی پالیسیوں پر کاربند ہے۔اوبامہ کیمپ کی نئی افغان
پالیسی بھی جلد ہی نامراد ٹھرے گی۔کہا جاتا ہے جنگ جیتنے کے لئے اسلحہ
دوسرا رول ادا کرتا ہے جبکہ زور بازو جنون بادہ پیمائی فتح کے جھنڈے
گاڑھنے کے لئے اولین و لازم عناصر کا کردار ادا کرتے ہیں۔جنگجو ایمانی
قوت اور جہادی عزائم کے جذبے سے مالا مال ہیں۔بھلا جن جنگجووں کے خون
میں نعرہ تکبیر کے لازوال جذبات شرارے مار رہے ہوں انکے سامنے دنیا کا
کوئی فوجی پر ہی نہیں مارسکتا اور وہ وقت دور نہیں جب دنیا کی تیسری
سپرپاور برطانیہ و روس کی پیروی کرتے ہوئے کابل سے رات کی تاریکیوں میں
راہ فرار اختیار کرے گی۔افغانستان میں ایک مرتبہ پھر ویت نام کی فلم سچ
کے روپ میں اپنے کمالات دکھائے گی کہ قابضین کانوں کو ہاتھ لگا کر
اندھیروں میں غائب ہوجائیں گے۔اگر نائن الیون سے لیکر سانحہ مہلوکین تک
کے امریکی کردار پر نظر دوڑائی جائے تو اوبامہ کی شکست بھی نوشتہ دیوار
بن چکی ہے۔مہلوکین کے معصومین کا خون ناحق اپنی قوم کی ازادی کا تحفظ
کرے گی کہ قاتلوں کے لئے معصومین کی دھرتی قبرستان ثابت ہوگی۔دیر ہے
اندھیر نہیں۔
|
|
 |
|