اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

 

Email:-ceditor@inbox.com

Telephone:- 1-514-250-3200        

تاریخ اشاعت04-01-2009

سال2009 کا سیاسی جائزہ

روف عامر پپا بریار

رب العالمین کی برکات و نوازشات کے طفیل پاکستان نئے سال میں داخل ہو چکا ہے جبکہ2009 اپنی تلخ و خوشگوار یادوں کے ساتھ ماضی کا حصہ بن چکا۔پاکستان اجکل سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ پچھلے سال کا سیاسی منظرنامہ نئے سال میں کیا رخ انداز کرسکتا ہے۔ویسے بھی تاریخ کی عرق ریزی زندہ و باشعور قوموں کا خاصہ ہوتی ہے تاکہ گزرے کل کی غلطیوں کوتاہیوں اور لغزشوں کو مستقبل میں نہ دہرایا جائے۔پچھلے سال صدر مملکت اصف علی زرداری یوسف رضا گیلانی، مسلم لیگ کے رہبر نواز شریف، چیف جسٹس اف پاکستان چوہدری افتخار حسین اور جنرل پرویز کیانی چیف اف ارمی سٹاف ریاست کے سیاسی معاشی و تہذیبی منظر نامے پر چھائے بھی رہے چمکتے بھی رہے اور دمکتے بھی رہے۔گزرے سال کا اہم ترین واقعہ سپریم کورٹ کے معزول سرخیل چوہدری افتخار کی بحالی تھی۔مشرفی ڈکٹیٹرشپ کے جابر فرعون نے سپریم کورٹ کے چیف کو محض اپنی انا ہٹ دھرمی اور حکومتی پالیسیوں کے برخلاف عادلانہ فیصلے کرنے کی پاداش میں برطرف کردیا۔چیف کی بحالی کے لئے سول کیمیونٹی وکلا اور سیاسی جماعتوں کے ورکروں نے تحریک شروع کردی جو پچھلے سال منزل مراد تک یوں پہنچی کہ پی سی او زدہ چیف عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ کے بعد چوہدری افتخار حسین کو دوبارہ باوقار انداز میں انکے منصب پر فائز کیا گیا۔ن لیگ کے شیدائی چیف جسٹس کی بحالی کا کریڈٹ مسلم لیگ نواز کے اکاوئنٹ میں جمع کرتے رہتے ہیں۔باوثوق زرائع کے مطابق معاملے کی گتھی اس وقت سلجھی جب امریکی سفیر پیٹرسن اور پرویز کیانی کی ملاقات ہوئی۔یوں چیف کی بحالی کی کلغی وکلا کے سر پر تو نہ سجائی جاسکی مگر یہ حقیقت اپنی جگہ اظہر من التمش ہے کہ چوہدری افتخار کی تعیناتی یا بحالی پوری قوم کا مشترکہ فیصلہ تھا۔وکلا تحریک کے دو ستونوں علی احمد کرد اور اعتزاز احسن کے درمیان کشاکش کے قصے بھی سننے کو ملے جس کے متعلق یہ تجزئیے و قیافے سامنے اتے رہے کہ پرویز کیانی اور پیٹرسن کی مداخلت نے ایسی رنجشوں کو جنم دیا۔اعتزاز احسن تاریکیوں میں پرویز کیانی سے ملنے گئے،یہ خبر بریک ہوئی تو لاریب اعتزاز احسن کی پاکباز و سفید شخصیت کی جھلمل کچھ نہ کچھ حد تک ماند پڑگئی۔چیف کی بحالی کے بعد صدر مملکت اور چوہدری افتخار حسین کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔دل جلوں نے دونوں اطراف سے لگائی بجھائی کا دھندہ جی کھول کرکیا۔پی پی پی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے صدر اور چیف جسٹس کے درمیان سلگنے والی رنجش کی چنگاری کو شعلہ جوالا بنانے کی تابڑ توڑ کوششیں کیں۔ایوان صدر و عدلیہ کے درمیان براہ راست ٹکراو یا تصادم کی غیر جمہوری مشقیں بھی ہوتی رہیں۔2009 میں ریاست کے پانچ بڑے ستون اپنی اتھارٹی منوانے کی سعی کرتے رہے۔صدر اور چیف جسٹس کے مابین تصادم کی کوششیں تو باراور ثابت نہ ہوسکیں تاہم عدلیہ کے چند فیصلوں نے اختلافات کی سچائی پر مہر ثبت کردی۔اداروں کے درمیان ٹکراو کو مہمیز دینے والی غیر مرئی طاقتیں کسی صورت میں ملک و قوم کی خیر خواہ نہیں ہوسکتیں ۔پاکستان کی پانچوں بااختیار شخصیات کو ریاستی بھلائی کے لئے غیر مرئی گروہوں کی چالبازیوں سے محتاط رہنا ہوگا۔ بیتے سال میں میڈیا کا غالب حصہ صدر مملکت پر بڑی سفاکیت سے حملہ اور ہوتا رہا اور یہ سلسلہ ابھی تک کس و ناکس جاری ہے۔صدر کے خلاف کیری لوگر بل اور این ار او کے حوالے سے منظم انداز میں میڈیا وار چلائی گئی جیسے زرداری اسرائیل یا بھارت کا صدر ہو۔ٹی وی اینکرز نے صدر کو زچ کرنے کے لئے لغویات مفروضوں اور بے جان کہاوتوں کی رائی کا پہاڑ بنادیا کہ صحافت کی دھجیاں اڑتی نظر ائیں۔کیری لوگر بل پر ائی ایس ائی کے حوالے سے خدشات ابھر کر سامنے ائے تاہم گورنمنٹ نے تمام وہم و وسوں کو دور کردیا جس سے طرفین کے درمیان برف پگھلنے لگی۔جہاں تک این ار او کا سوال ہے تو لمبی لمبی بے تکان چھوڑنے والے اینکرز کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ جب مشرف این ار او کے خدوخال تراش رہے تھے جب مفاہمتی بل پر دستخط ہوگئے۔مشرف مستعفی ہوئے الیکشن کا انعقاد ہوا زرداری نے صدارت کا الیکشن لڑا تب شائیں شائیں کرنے والوں کی زبانیں کنگ کیوں تھیں؟ ایک ایسے وقت میں جب ملک خانہ جنگی میں گھرا ہوا ہے۔پاک فوج حالت جنگ میں ہے کے دوران گل افشانیاں کرنے اور خود ساختہ سوالات کی اڑ میں ایوان صدر پر زہر میں بجھے ہوئے تیروں کی یلغار کرنے والے دانشور دراصل جمہوریت کا قتل چاہتے ہیں اور یہ ٹولہ کسی صورت میں ملک و قوم کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔این ار او کے فیصلے سے پی پی پی قیادت کے چہروں کی جبیں پر شکنیں تو دکھائی دیں مگر وزیراعظم گیلانی نئے انداز سے میڈیا کے سامنے ائے۔گیلانی نے عدالت عظمی کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔گیلانی پر پھبتی کسی جاتی رہی ہے کہ وہ پی پی پی کی بجائے نواز لیگ پرائم منسٹر ہیں مگر این ار او کیس کے فیصلے کے بعد وہ جس انداز میں میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے اور اپنا سارا وزن صدر کے پلڑے میں ڈالا تو جیالوں کو سکون میسر ایا۔کیری لوگر بل اور این اراو کو بنیاد بنا کر صدر پر جتنی کیچڑ اچھالی گئی وہ صبر و تحمل سے برداشت کرتے رہے مگر جب جام چھلکنے لگیں تو پھر کوئی انسان چپ کا روزہ نہیں رکھ سکتا۔زرداری نے بی بی کی دوسری برسی پر تقریر کرتے ہوئے جہاں اشارتی انداز میں بہت سا کچہ چھٹا کھول دیا تو وہاں انہوں نے سازشی عناصر کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا عزم بھی کرڈالا۔ صدر کی تقریر کو مختلف معنی و مطالب پہنائے گئے ۔دل جلوں نے صدر کی مخالف ہواوں کو طوفان میں بدلنے کی جسارت و حماقت کی۔کہا گیا کہ صدارت چند دن کا کھیل ہے اور صدر کی حریف طاقتیں فائنل راونڈ کے لئے تیار ہیں مگر اگلے روز زرداری نے یہ اعلان کرکے مخالفین کے تمام ارادوں کو خاک کردیا کہ وہ پانچ سالہ مینڈیٹ پوارا کریں گے۔نواز شریف پچھلے سال صدر کے خلاف رزم ارا تو نہ تھے مگر اٹھائیس دسمبر کو انکا بیان تھا کہ سوئس بنکوں میں عوام کا پیسہ ہے۔گیلانی نے پچھلے سال دانشمندانہ رول ادا کیا جو انکی بصیرت و فراست کا ائینہ کار ہے۔وہ صدر فوج اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے۔وہ حکومت کو للکارنے پچھاڑنے کی خواہشات کے رسیا افراد شخصیات اور سیاست دانوں کو احتیاط و ہوش مندی سے قابو کرتے رہے۔لال بھجکڑوں نے صدر و وزیراعظم کے درمیان بندھن کی ڈور کاٹنے اور ایک دوسرے کے خلاف صف ارا کرنے کی ہمہ تن گوش سازشیں کیں مگر گیلانی صاحب نے نہ صرف اپنے قائد کا دفاع کیا بلکہ انہوں نے صدر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر اپنی وفاداری ثابت کردی۔انہوں نے اپنی حکومت کی ہچکولے کھانے والی کشتی کے چپووں کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔حکومت نے پچھلے سال کئی کوتاہیاں بھی کیں صدر نے غلطیوں کا اقرار کرکے نئی تاریخ رقم کی ہے اور قوم کی طرف سے زرداری کو گریس مارک ملنے چاہیں۔حکومت کئی ایک وعدے پورے نہ کرسکی ۔لوڈ شیڈنگ کو پچھلے سال کے آخر تک دفن کرنے کا اشرفی وعدہ پورا نہ ہوسکا۔نیو ایر پر بجلی کی قیمتیں بڑھادی گئیں جو عوامی رنگ و روپ رکھنے والی جماعت کو زیب نہیں دیتا۔اب جبکہ حکومت نئے سال میں داخل ہوگئی ہے تو حکومتی ملاحوں صدر اور وزیراعظم کا فرض ہے کہ وہ جمہوریت کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچائیں۔ روٹی کپڑا اور مکان ہر پاکستانی کو دیا جانا ناممکنات کا کھیل ہے مگر اس کے بدلے حکومت مہنگائی لوڈ شیڈنگ بیروزگاری کے خاتمے کے لئے ہنگامی اقدامات کرے۔اپوزیشن کا کردار لائق تحسین ہے۔حکمرانوں سمیت سیاسی و دینی جماعتوں سمیت قوم کا بھی حق بنتا ہے کہ سارے باہم شیر و شکر اور یکسو ہوکر مصائب و الام میں پھنسے ہوئے ملک میں جمہوریت کی سربلندی ائین کی کارفرمائی اور دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔پوری قوم صدر ارمی چیف، وزیراعظم، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایک میز پر بیٹھیں اور ہر کوئی ائینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے ورنہ یہی لولی لنگڑی جمہوریت ہی قصہ پارینہ بن جائے گی

 
 
Email:-jawwab@gmail.com
Advertise Guest book Privacy Policy Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team