صحت مند افراد کا بلڈ پریشر کتنا ہونا چاہیے؟

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل قرار دیا جائے تو کم نہیں کیونکہ یہ خون کی شریانوں، دل، دماغ، گردوں اور آنکھوں سمیت جسم کے دیگر اعضا پر دباﺅ بڑھاتا ہے۔

مسلسل ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہنا جان لیوا امراض جیسے دل کی بیماریوں، ہارٹ اٹیک، فالج، دماغی تنزلی اور گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر خون کا دباﺅ ہوتا ہے جو ہماری شریانوں کو سکیڑتا ہے۔

بلڈ پریشر ناپنے کے 2 پیمانے ہوتے ہیں ایک خون کا انقباضی دباﺅ ( systolic blood pressure) جو کہ اوپری دباﺅ کے نمبر کے لیے ہوتا ہے جو کہ دل کے دھڑکنے سے خون جسم میں پہنچنے کے دوران دباﺅ کا بھی مظہر ہوتا ہے۔

دوسرا خون کا انبساطی دباﺅ (diastolic blood pressure) ہوتا ہے جو کہ نچلا نمبر ہوتا ہے یعنی اس وقت جب انسانی دل دھڑکنوں کے درمیان وقفہ اور آرام کرتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پیمانوں سے پتا چلتا ہے کہ ہماری خون کی رگیں کتنی لچکدار ہوتی ہیں۔

ان کے بقول اگر کسی انسان کے خون کا دباﺅ 139/89 سے زیادہ ہے تو یہ ہائی بلڈ پریشر تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کے خون کا دباﺅ 140/90 سے اوپر ہوجائے تو ہم اس کے علاج کا مشورہ دیتے ہیں جس کے نتیجے میں طرز زندگی میں تبدیلیاں بھی ضروری ہوتی ہیں جیسے زیادہ ورزش اور غذا میں تبدیلی۔

درحقیقت اس مرض پر قابو پانے کے لیے انسان کو خود ہی محنت کرنا ہوتی ہے۔

لو بلڈ پریشر 90/60 سے کم کو سمجھ جاتا ہے اور صحت مند افراد کا بلڈ پریشر 120/80 ہونا چاہیے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اس وقت ہوتا ہے جب جسم زیادہ حرکت یا جدوجہد کررہا ہوتا ہے یعنی اسے زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہونے کی شکل میں دل کے لیے کام کرنا زیادہ مشکل ہوجاتا ہے اور اسے جسم کے مختلف حصوں میں خون پہنچانے کے لیے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ کمزور ہوجاتا ہے۔

اس کا نتیجہ دل کے مختلف امراض یا ہارٹ اٹیک کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ خون کی شریانیں بھی سکڑنا یا اکڑنا شروع ہوجاتی ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ لوگ بلڈ پریشر کو نمک کے استعمال میں کمی لاکر، جسمانی وزن کم کرکے، روزانہ ورزش کرکے، کیفین کے کم استعمال، تمباکو نوشی سے گریز اور کم از کم 6 گھنٹے کی نیند لے کر قابو میں لاسکتے ہیں۔

زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار اکثر افراد کو اس کی موجودگی کا علم ہی نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے، یہ کسی بھی عمر کے افراد کو اپنا نشانہ بناسکتا ہے۔

تو زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ عمر کی تیسری دہائی سے ہی بلڈ پریشر کے چیک اپ کو معمول بنالیا جائے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں